اجل گرفتہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - اجل رسیدہ۔      "بغیظ و غضب تمام قریب نورالدہر کے آ کر کہا کیوں او اجل گرفتہ تو نے ہمارے صید کو کیوں شکار کیا۔"     رجوع کریں:   ( ١٨٩١ء، طلسم ہوشربا، ٣٨٤:٥ ) ٢ - جو مر چکا ہو۔ "اے کم بخت اجل گرفتہ میری بات نہ سنی اور اس شہر میں جاکر مفت اپنی جان دی۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٨٨ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اجل' کے ساتھ فارسی زبان کے مصدر'گرفتن' سے حالیہ تمام لگایا گیا ہے۔

مثالیں

١ - اجل رسیدہ۔      "بغیظ و غضب تمام قریب نورالدہر کے آ کر کہا کیوں او اجل گرفتہ تو نے ہمارے صید کو کیوں شکار کیا۔"     رجوع کریں:   ( ١٨٩١ء، طلسم ہوشربا، ٣٨٤:٥ ) ٢ - جو مر چکا ہو۔ "اے کم بخت اجل گرفتہ میری بات نہ سنی اور اس شہر میں جاکر مفت اپنی جان دی۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٨٨ )